ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / منگلورو:سیریل قاتل سائنائڈ موہن پر لڑکیوں کے قتل کا 17واں معاملہ بھی ہوا ثابت

منگلورو:سیریل قاتل سائنائڈ موہن پر لڑکیوں کے قتل کا 17واں معاملہ بھی ہوا ثابت

Sat, 13 Jul 2019 12:30:50    S.O. News Service

منگلورو 13/جولائی (ایس او نیوز) شادی کرنے کے بہانے نوجوانوں لڑکیوں کو پھنسانے اور پھر ان کوسائنائیڈ زہر کھلا کرقتل کرنے کے بعد زیورات لوٹ کر فرار ہونے کے لئے سائنائڈ موہن کے نام سے معروف سلسلہ وار قاتل پر قتل کا 17واں معاملہ بھی ثابت ہوگیا ہے۔

 خیال رہے کہ پیشے کے اعتبار سے ایک فزیکل ٹیچر موہن کمارکبھی پرروفیسر موہن کمار، آنندا، بھاسکر اور بھاسکرا کے نام سے بھی جانا جاتا ہے۔

منگلورو سیشنس کورٹ کی جج سیدالنساء نے ہینڈلگا جیل میں مقید سائنائڈ موہن سے ویڈیوکانفرنسنگ کے ذریعے کیس کی سماعت کے بعد ملزم پر قتل کا جرم ثابت ہونے کی بات کہتے ہوئے کہا اس جرم کی سز ا کی مقدار کے تعلق سے 18جولائی کو فیصلہ سنایا جائے گا۔

سائنائڈجو ایک انتہائی سریع الاثر زہرہے،جسے سنار سونے کی صفائی کرنے کے لئے بھی استعمال کرتے ہیں۔ موہن کمار کو یہ بات ایک سنار سے معلوم ہوئی تھی اور اس نے کیمیائی مادے فروخت کرنے والے ایک شخص سے یہ زہر خرید لیا تھا اور اس کا استعمال اپنے شکار کو ٹھکانے لگانے کے لئے کیا کرتاتھا۔وہ شادی کی خواہشمند لڑکیوں کو اپنے جال میں پھنسا کرکسی طرح دوسرے شہر میں ملاقات کے لئے بلاتا اور بس اسٹانڈ سے قریب واقع کسی ہوٹل میں لے جاکر جنسی تعلق پید ا کرنے کے بعد انہیں حمل روکنے والی گولی بتاکر سائنائڈ لگی ہوئی گولی کھلادیتا تھا۔اس طرح2003سے 2009کے درمیان لڑکیوں کے اس سلسلہ وار قاتل نے جنوبی کینرا ضلع کے پانچ شہروں میں جملہ 20 لڑکیوں کا قتل اسی انداز میں کیا ہے۔اس سے قبل بیشتر معاملات میں اسے پھانسی کی سزا سنائی جاچکی ہے۔ عجیب بات یہ ہے کہ سرکار کی طرف سے اس کے لئے وکیل فراہم کرنے کی پیش کش کو وہ مسترد کردیتا ہے اورعدالت میں اپنی پیروی خود ہی کیا کرتا ہے۔

اب جس معاملے میں جرم ثابت ہوا ہے اس کی تفصیلات یہ بتائی جاتی ہیں کہ کاسرگوڈمنجیشور کی ایک 26سالہ لڑکی سے اس نے اپنے آپ کوانشورنس ایجنٹ سدھاکر کے نام سے متعارف کروایا۔ پھر شادی کرنے کی خواہش جتائی۔ لڑکی کے ساتھ اس کی پھوپھی لڑکے کو دیکھنے کے لئے20جون 2006کو منگلوروپہنچی۔ اس کے بعد وہ کسی طرح پھسلاکر لڑکی کو اپنے ساتھ بس میں لے کر چل پڑا اور پھوپھی اکیلی واپس لوٹ آئی۔ بعد میں پتہ چلا کہ مڈیکیرے کے ایک ہوٹل میں لڑکی کی عصمت لوٹنے اور قتل کرنے کے بعد ملزم فرار ہوگیا ہے۔ 

جب موہن کمار 21اکتوبر 2009کو بنٹوال میں گرفتار ہواتو اس نے ایک سے زائد معاملات میں نوجوان لڑکیوں کو سائنائڈ زہر دے کرہلاک کرنے اور زیورات لوٹنے کی بات قبول کرلی۔ پھر جب اسے کاسرگوڈ لے جایاگیا تو وہاں پر لڑکی کی پھوپھی نے سدھاکر کے روپ میں ملنے والے موہن کمار کو پہچان لیا۔ اور قتل کا جرم ثابت کرنے میں اس شہادت سے بڑی تقویت ملی۔

معلوم ہوا ہے کہ اس معاملے میں سلسلہ وار قاتل سائنائڈ موہن پر زہر دے کر ہلاک کرنے، زیورات لوٹنے، دھوکہ دینے، ثبوت مٹانے اور قتل کرنے کے لئے تعزیرات ہند کی مقررہ دفعات کے تحت کیس ثابت ہوا ہے جبکہ اغوا اور عصمت دری کے معاملے ناکافی شہادتوں کے وجہ سے ثابت نہیں ہوسکے۔دیکھنا ہوگا کہ عدالت سے اس معاملے میں کیا سزا دی جاتی ہے۔


Share: